میرا وجود (My Existence)

Posted by Knonie

-١-

مجھے خوشی ہوتی ہے جب مجھے بھیک ملتی ہے- اس بات کی خوشی کہ حسب توفیق کوئی اپنی ذاتی زندگی کا کچھ حصّہ ہمیشہ کے لئے مجھے دے رہا ہے- مجھے کسی چیز سے کوئی خاص سروکار نہیں ہوتا- میں ہاتھ نہیں پھیلاتا مگر شاید میری شکل سے ہی سب اندازہ لگا لیتے ہوں-

مجھے پڑھنے کا بہت شوق ہے- باقی سب کی طرح کبھی افسری اور نوکری کے خواب تو نہیں دیکھے اسی لئے کالج بھی چھوڑ دیا- بس خود ہی کچھ نہ کچھ سیکھتا رہتا ہوں- پارک کےتنہا کونے میں کچرے کے بڑے ڈ بے کے ساتھ اس ٹوٹے بینچ پرکوئی کتاب پکڑے بیٹھ کرکبھی سوچتا ہوں اور باقی وقت سوتا ہوں- یوں اکیلے ہوتے ہوئے بھی میری زندگی میں تنہائی کا تصّورنہیں ہے- شاید شروع سے ہی الگ تھلگ رہنے سے اپنے آپ کو کوئی سورج چاند جیسی چیز سمجھتا ہوں-

-٢-

میں لوگوں کی طرف اتنا دیکھا ہی نہیں کرتا- وہ سب ایک ہی جیسے رنگ برنگ سے ہوتے ہیں- یہ نہیں معلوم کہ وہ کیا کیا سوچتے ہیں مگر ایسا ضرور لگتا ہے کہ وہ بہت کچھ جانتے ہیں- کبھی کبھی ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جو بھی مجھ پر نگاہ ڈالتا ہے وہ میرا سب احوال جان لیتا ہے- بھیک دینے والوں کا چہرہ ضرور دیکھتا ہوں- یہی چند انسان ہوتے ہیں جو کچھ لمحے میری زندگی کا حصہ بنتے ہیں- اس سے زندگی میں کچھ ہلچل مچ جاتی اور یہ کائنات اور وسیع ہوتی جاتی ہے-

-٣-

میرا ماضی، حال، اور مستقبل سب ایک ہی دن ہے- یہی آج کا دن جس میں میں جی رہا ہوں- میرے پاس ماضی کے کوئی کارنامے ہیں اور نہ ہی مستقبل کے کوئی خواب- میں تو خود وہ خواب ہوں جو اس وقت دیکھا جا رہا ہے- اسی خواب میں وہ چہرہ میرے پاس آیا، باقی سب پاس آنے والوں کی طرح- ناجانے کیوں میں نے اس کی آنکھوں کی چمک کو دیکھا اور اس میں مجھے اپنا عکس نظر آیا- زندگی میں پہلی بار یوں اپنے آپ کو دیکھا اور دیکھتا ہی رہ گیا ہوں-

– – –


Leave a Reply

Verify your sanity: